نئی دہلی،7؍ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)’’کنٹر زبان کی مشہور جرنلسٹ گوری لنکیش کو ان کے گھر کے دروازے پر اندھادھند گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ سی پی آئی (ایم) کی رپورٹ کے مطابق ہندوتو طاقتوں کا اس ہاتھ ہے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو فسطائی جتھوں کی طرف سے حق کی آواز دبانے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے ؛ بلکہ اس کی تاریخ بڑی لمبی اور بھیانک ہے۔ ہیمنت کرکرے، گوند پنسارے، ڈابھولکر اور کلبرگی جیسے مذہبی روادار اور حق گو شخصیات کا قتل اسی گندی سازش کے شکارمتحرک افراد کے کچھ نام ہیں۔ گاؤری لنکیش کے قتل کا واقعہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے نفرت اور عدم رواداری کے خلاف اُٹھنے والی آواز کو خاموش کرنے کے، طریقے کے جانے پہچانے طریقے کے عین مطابق ہواہے ‘‘۔آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ذمہ داران نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ : ’’گاؤری لنکیش ایک تجربہ کار، نڈر، حق گو اور بے باک جرنلسٹ تھیں۔ جو توہم پرستی، ظلمت پسندی اور دائیں بازو کی ہندوتوا طاقتوں کی فرقہ پرستی کی مخالفت میں پیش پیش تھیں۔ پچپن سالہ گاؤری ’’گوری لنکیش پتریکا‘‘ کی حق گو ایڈیٹر تھیں ۔ اس کے علاوہ دیگر کئی جریدوں کو چلانے والی صحیح دیش بھگت جرنلسٹ تھیں۔ ان کے بے رحمانہ قتل نے ہندستانی باشندوں کے دلوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ جو ایک جمہوری ملک کے لیے بہت ہی شرمناک ہے‘‘۔اس لیے آل انڈیا امامس کونسل گاؤری لنکیش کے ظالمانہ قتل پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اور تمام حق پسند اور امن دوست ہندستانیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی سلامتی اور مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کو باقی رکھنے کے لیے اپنے گھروں سے باہر آئیں۔ اس طرح کا قتل ملک کو کمزور اور باہمی رواداری کو ختم کر دینے کی سازش ہے۔